نور کی کرن اس سے خود نکلتی رہتی ہے

اعجاز صدیقی

نور کی کرن اس سے خود نکلتی رہتی ہے

اعجاز صدیقی

MORE BY اعجاز صدیقی

    نور کی کرن اس سے خود نکلتی رہتی ہے

    وقت کٹتا رہتا ہے رات ڈھلتی رہتی ہے

    اور ذکر کیا کیجے اپنے دل کی حالت کا

    کچھ بگڑتی رہتی ہے کچھ سنبھلتی رہتی ہے

    ذہن ابھار دیتا ہے نقش حال و ماضی کے

    ان دنوں طبیعت کچھ یوں بہلتی رہتی ہے

    تہہ نشین موجیں تو پر سکون رہتی ہیں

    اور سطح دریا کی موج اچھلتی رہتی ہے

    چاہے اپنے غم کی ہو یا غم زمانہ کی

    بات تو بہر صورت کچھ نکلتی رہتی ہے

    زندگی ہے نام اس کا تازگی ہے کام اس کا

    ایک موج خوں دل سے جو ابلتی رہتی ہے

    کیف بھی ہے مستی بھی زہر بھی ہے امرت بھی

    وہ جو جام ساقی سے روز ڈھلتی رہتی ہے

    آج بھی بری کیا ہے کل بھی یہ بری کیا تھی

    اس کا نام دنیا ہے یہ بدلتی رہتی ہے

    ہوتی ہے وہ شعروں میں منعکس کبھی اعجازؔ

    مدتوں گھٹن سی جو دل میں پلتی رہتی ہے

    مآخذ:

    • Book: Karwaan-e-Ghazal (Pg. 132)
    • Author: Farooq Argali
    • مطبع: Farid Book Depot (Pvt.) Ltd (2004)
    • اشاعت: 2004

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites