پہلی بار وہ خط لکھا تھا

شارق کیفی

پہلی بار وہ خط لکھا تھا

شارق کیفی

MORE BYشارق کیفی

    پہلی بار وہ خط لکھا تھا

    جس کا جواب بھی آ سکتا تھا

    خود افواہ اڑاتا تھا میں

    خود ہی یقیں بھی کر لیتا تھا

    اس سے کہو اس روپ میں آئے

    جیسا پہلی نظر میں لگا تھا

    بھول چکا تھا دے کے صدا میں

    تب جنگل کا جواب آیا تھا

    ہم تو پرائے تھے اس گھر میں

    ہم سے کون خفا ہوتا تھا

    ٹوٹ گئے اس کوشش میں ہم

    اپنی طرف جھکنا چاہا تھا

    الجھ رہی تھی آنکھ کہیں پر

    کوئی مجھے پہچان رہا تھا

    ٹوٹ گیا پھر غم کا نشہ بھی

    دکھ کتنا سکھ دے سکتا تھا

    جگہ جگہ سے ٹوٹ رہا ہوں

    کس نے مجھے چھو کر دیکھا تھا

    کتنے سچے دل سے ہم نے

    اپنا اپنا جھوٹ کہا تھا

    پہلی بار میں اس کی خاطر

    اپنے لئے کچھ سوچ رہا تھا

    اتنے سمجھانے والے تھے

    میں کچھ کیسے سمجھ سکتا تھا

    بڑی بڑی آنکھوں میں اس کی

    کوئی سوال ہوا کرتا تھا

    مآخذ :
    • کتاب : Yahan Tak Roshni Aati Kahan Thi (Pg. 92)
    • Author : Shariq Kaifi
    • مطبع : Educational Publishing House (2008)
    • اشاعت : 2008

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY