پہنچے جو منزل مقصود پہ پکے نکلے
پہنچے جو منزل مقصود پہ پکے نکلے
رہ گئے وہ جو تری راہ میں کچے نکلے
دیکھ کر مجھ کو عدو بزم سے پھوٹے نکلے
جن کو میٹھا میں سمجھتا رہا کڑوے نکلے
بھیڑ میں اب غم دنیا کے پھنسا ہوں میں بھی
میں بھی نکلوں گا کوئی اور تو سرکے نکلے
نا خدا نے تو پھنسا دی تھی بھنور میں کشتی
نام جب ہم نے خدا کا لیا کیسے نکلے
یہ ملا مجھ کو مری دشت نوردی کا صلہ
مدتوں بعد مرے پاؤں سے کانٹے نکلے
پھر وہ جاتے ہیں بہت دور کسی اور طرف
تیرے عاشق وہ جو بت خانے سے نکلے نکلے
توبہ کرتے رہے پیتے بھی رہے ہاتھ کے ہاتھ
بادہ کش ساقیا میخانے کے سرتے نکلے
سب سے آگے تھے جو کل اف رے تغیر کہ وہی
آج دنیا کی ہر اک دوڑ میں پیچھے نکلے
نقص عارفؔ تھا پرکھ میں کہ حقیقت تھی یہی
جس قدر سکے کھرے دیکھے تھے کھوٹے نکلے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.