Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

پہنچے جو منزل مقصود پہ پکے نکلے

عارف دہلوی

پہنچے جو منزل مقصود پہ پکے نکلے

عارف دہلوی

MORE BYعارف دہلوی

    پہنچے جو منزل مقصود پہ پکے نکلے

    رہ گئے وہ جو تری راہ میں کچے نکلے

    دیکھ کر مجھ کو عدو بزم سے پھوٹے نکلے

    جن کو میٹھا میں سمجھتا رہا کڑوے نکلے

    بھیڑ میں اب غم دنیا کے پھنسا ہوں میں بھی

    میں بھی نکلوں گا کوئی اور تو سرکے نکلے

    نا خدا نے تو پھنسا دی تھی بھنور میں کشتی

    نام جب ہم نے خدا کا لیا کیسے نکلے

    یہ ملا مجھ کو مری دشت نوردی کا صلہ

    مدتوں بعد مرے پاؤں سے کانٹے نکلے

    پھر وہ جاتے ہیں بہت دور کسی اور طرف

    تیرے عاشق وہ جو بت خانے سے نکلے نکلے

    توبہ کرتے رہے پیتے بھی رہے ہاتھ کے ہاتھ

    بادہ کش ساقیا میخانے کے سرتے نکلے

    سب سے آگے تھے جو کل اف رے تغیر کہ وہی

    آج دنیا کی ہر اک دوڑ میں پیچھے نکلے

    نقص عارفؔ تھا پرکھ میں کہ حقیقت تھی یہی

    جس قدر سکے کھرے دیکھے تھے کھوٹے نکلے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے