پلک جھپکتے میں کٹتے ہیں روز و شب مہ و سال (ردیف .. ے)

محمود ایاز

پلک جھپکتے میں کٹتے ہیں روز و شب مہ و سال (ردیف .. ے)

محمود ایاز

MORE BYمحمود ایاز

    پلک جھپکتے میں کٹتے ہیں روز و شب مہ و سال

    جو فاصلے تھے من و تو کے درمیاں نہ رہے

    وفا رفاقت یک عمر کچھ نہیں لیکن

    یہ چاہتا ہوں کہ روؤں بہت گلے مل کے

    مصاف زیست میں وہ رن پڑا ہے آج کے دن

    نہ میں تمہاری تمنا ہوں اور نہ تم میرے

    رفیق و یار کہاں اے حجاب تنہائی

    بس اپنے چہرے کو تکتا ہوں آئینہ رکھ کے

    ہزار شور تماشا ہو آنکھ باز نہ ہو

    وہ خواب دیکھ کے بیٹھا ہوں عمر بھر کے لیے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY