پریوں ایسا روپ ہے جس کا لڑکوں ایسا ناؤں

ظفر اقبال

پریوں ایسا روپ ہے جس کا لڑکوں ایسا ناؤں

ظفر اقبال

MORE BYظفر اقبال

    پریوں ایسا روپ ہے جس کا لڑکوں ایسا ناؤں

    سارے دھندے چھوڑ چھاڑ کے چلیے اس کے گاؤں

    پکی سڑکوں والے شہر میں کس سے ملنے جائیں

    ہولے سے بھی پاؤں پڑے تو بج اٹھتی ہیں کھڑاؤں

    آتے ہیں کھلتا دروازہ دیکھ کے رک جاتے ہیں

    دل پر نقش بٹھا جاتے ہیں یہی ٹھٹکتے پاؤں

    پیاسا کوا جنگل کے چشمے میں ڈوب مرا

    دیوانہ کر دیتی ہے پیڑوں کی مہکتی چھاؤں

    ابھی نئی بازی ہوگی پھر سے پتا ڈالیں گے

    کوئی بات نہیں جو ہار گئے ہیں پہلا داؤں

    مأخذ :
    • کتاب : intekhab-e-zarrin (Pg. 358)
    • Author : Khvaja Mohammad Zakariya
    • مطبع : Sangeet publication (2009)
    • اشاعت : 2009

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY