پھیلے ہوئے ہیں شہر میں سائے نڈھال سے

عادل منصوری

پھیلے ہوئے ہیں شہر میں سائے نڈھال سے

عادل منصوری

MORE BY عادل منصوری

    پھیلے ہوئے ہیں شہر میں سائے نڈھال سے

    جائیں کہاں نکل کے خیالوں کے جال سے

    مشرق سے میرا راستہ مغرب کی سمت تھا

    اس کا سفر جنوب کی جانب شمال سے

    کیسا بھی تلخ ذکر ہو کیسی بھی ترش بات

    ان کی سمجھ میں آئے گی گل کی مثال سے

    چپ چاپ بیٹھے رہتے ہیں کچھ بولتے نہیں

    بچے بگڑ گئے ہیں بہت دیکھ بھال سے

    رنگوں کو بہتے دیکھیے کمرے کے فرش پر

    کرنوں کے وار روکئے شیشے کی ڈھال سے

    آنکھوں میں آنسوؤں کا کہیں نام تک نہیں

    اب جوتے صاف کیجئے ان کے رومال سے

    چہرہ بجھا بجھا سا پریشان زلف زلف

    اللہ دشمنوں کو بچائے وبال سے

    پھر پانیوں میں نقرئی سائے اتر گئے

    پھر رات جگمگا اٹھی چاندی کے تھال سے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY