پھر کوئی نیا زخم نیا درد عطا ہو

اطہر نفیس

پھر کوئی نیا زخم نیا درد عطا ہو

اطہر نفیس

MORE BY اطہر نفیس

    پھر کوئی نیا زخم نیا درد عطا ہو

    اس دل کی خبر لے جو تجھے بھول چلا ہو

    اب دل میں سر شام چراغاں نہیں ہوتا

    شعلہ ترے غم کا کہیں بجھنے نہ لگا ہو

    کب عشق کیا کس سے کیا جھوٹ ہے یارو

    بس بھول بھی جاؤ جو کبھی ہم سے سنا ہو

    دروازہ کھلا ہے کہ کوئی لوٹ نہ جائے

    اور اس کے لیے جو کبھی آیا نہ گیا ہو

    شاید کہ ترے قرب سے آ جائے میسر

    وہ درد کہ جو درد جدائی سے سوا ہو

    اب میری غزل کا بھی تقاضا ہے یہ تجھ سے

    انداز و ادا کا کوئی اسلوب نیا ہو

    مآخذ:

    • Book : Beesveen Sadi Ki Behtareen Ishqiya Ghazlen (Pg. 38)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY