پھر سن رہا ہوں گزرے زمانے کی چاپ کو

شکیب جلالی

پھر سن رہا ہوں گزرے زمانے کی چاپ کو

شکیب جلالی

MORE BYشکیب جلالی

    پھر سن رہا ہوں گزرے زمانے کی چاپ کو

    بھولا ہوا تھا دیر سے میں اپنے آپ کو

    رہتے ہیں کچھ ملول سے چہرے پڑوس میں

    اتنا نہ تیز کیجیے ڈھولک کی تھاپ کو

    اشکوں کی ایک نہر تھی جو خشک ہو گئی

    کیوں کر مٹاؤں دل سے ترے غم کی چھاپ کو

    کتنا ہی بے کنار سمندر ہو پھر بھی دوست

    رہتا ہے بے قرار ندی کے ملاپ کو

    پہلے تو میری یاد سے آئی حیا انہیں

    پھر آئنے میں چوم لیا اپنے آپ کو

    تعریف کیا ہو قامت دل دار کی شکیبؔ

    تجسیم کر دیا ہے کسی نے الاپ کو

    مآخذ
    • کتاب : Kulliyat Shakeb Jamali (Pg. 132)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY