پھری ہوئی مری آنکھیں ہیں تیغ زن کی طرف

نظم طبا طبائی

پھری ہوئی مری آنکھیں ہیں تیغ زن کی طرف

نظم طبا طبائی

MORE BY نظم طبا طبائی

    پھری ہوئی مری آنکھیں ہیں تیغ زن کی طرف

    چلا ہے چھوڑ کے بسمل مجھے ہرن کی طرف

    بنایا توڑ کے آئینہ آئینہ خانہ

    نہ دیکھی راہ جو خلوت سے انجمن کی طرف

    رہ وفا کو نہ چھوڑا وہ عندلیب ہوں میں

    چھٹا قفس سے تو پرواز کی چمن کی طرف

    گریز چاہئے طول امل سے سالک کو

    سنا ہے راہ یہ جاتی ہے راہزن کی طرف

    سرائے دہر میں سوؤ گے غافلو کب تک

    اٹھو تو کیا تمہیں جانا نہیں وطن کی طرف

    جو اہل دل ہیں الگ ہیں وہ اہل ظاہر سے

    نہ میں ہوں شیخ کی جانب نہ برہمن کی طرف

    جہان حادثہ آگین میں بشر کا ورود

    گزر حباب کا دریائے موجزن کی طرف

    اسی امید پہ ہم دن خزاں کے کاٹتے ہیں

    کبھی تو باد بہار آئے گی چمن کی طرف

    بچھڑ کے تجھ سے مجھے ہے امید ملنے کی

    سنا ہے روح کو آنا ہے پھر بدن کی طرف

    گواہ کون مرے قتل کا ہو محشر میں

    ابھی سے سارا زمانہ ہے تیغ زن کی طرف

    خبر دی اٹھ کے قیامت نے اس کے آنے کی

    خدا ہی خیر کرے رخ ہے انجمن کی طرف

    وہ اپنے رخ کی صباحت کو آپ دیکھتے ہیں

    جھکے ہوئے گل نرگس ہیں یاسمن کی طرف

    تمام بزم ہے کیا محو اس کی باتوں میں

    نظر دہن کی طرف کان ہے سخن کی طرف

    اسیر ہو گیا دل گیسوؤں میں خوب ہوا

    چلا تھا ڈوب کے مرنے چہ ذقن کی طرف

    یہ میکشوں کی ادا ابر تر بھی سیکھ گئے

    کنار جو سے جو اٹھے چلے چمن کی طرف

    زہے نصیب جو ہو کربلا کی موت اے نظمؔ

    کہ اڑ کے خاک شفا آئے خود کفن کی طرف

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY