پھول جب کوئی بکھرتا ہے تو ہنس دیتے ہیں

ممتاز میرزا

پھول جب کوئی بکھرتا ہے تو ہنس دیتے ہیں

ممتاز میرزا

MORE BYممتاز میرزا

    پھول جب کوئی بکھرتا ہے تو ہنس دیتے ہیں

    درد جب حد سے گزرتا ہے تو ہنس دیتے ہیں

    پردۂ ذہن پہ ماضی کے جھروکوں سے کبھی

    ایک چہرہ سا ابھرتا ہے تو ہنس دیتے ہیں

    صبح تک جلنا پگھلنا ہے ہماری قسمت

    رنگ شب یوں جو نکھرتا ہے تو ہنس دیتے ہیں

    آگہی بھولنے دیتی نہیں ہستی کا مآل

    ٹوٹ کے خواب بکھرتا ہے تو ہنس دیتے ہیں

    زندگی جہد مسلسل ہے ہراساں کیوں ہو

    ولولہ جب کوئی مرتا ہے تو ہنس دیتے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے