پھول جو دل کی رہ گزر میں ہے

عزیز انصاری

پھول جو دل کی رہ گزر میں ہے

عزیز انصاری

MORE BYعزیز انصاری

    پھول جو دل کی رہ گزر میں ہے

    جانے کس کے وہ انتظار میں ہے

    فکر بھی لطف انتظار میں ہے

    بے قراری بھی کچھ قرار میں ہے

    زندگی تجھ سے کیا امید رکھوں

    تو کہاں میرے اختیار میں ہے

    اپنا دشمن ہے یہ جہاں سارا

    کتنی طاقت ہمارے پیار میں ہے

    کوئی حرکت نہیں ہے ڈالی میں

    کیا پرندے کے انتظار میں ہے

    کر سکو تو اسے کرو محسوس

    ایک لذت جو نوک خار میں ہے

    وہ جو آگے تھا جاں نثاروں میں

    سب سے پیچھے وہی قطار میں ہے

    دھول بھی معتبر ہے رستے کی

    کارواں کا نشاں غبار میں ہے

    امن اور آشتی سے اس کو کیا

    اس کا مقصد تو انتشار میں ہے

    درد تو انگلیوں سے ملتا ہے

    ورنہ آواز تو ستار میں ہے

    کل بھی وہ میرا منتظر تھا عزیزؔ

    آج بھی میرے انتظار میں ہے

    مآخذ :
    • کتاب : Bole Meri Gazal (Pg. 34)
    • Author : Aziz Ansari
    • مطبع : Aziz Ansari, Station Director Akashvani Jalgaon (2000)
    • اشاعت : 2000

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY