پھولوں کو ویسے بھی مرجھانا ہے مرجھائیں گے

فاروق شفق

پھولوں کو ویسے بھی مرجھانا ہے مرجھائیں گے

فاروق شفق

MORE BYفاروق شفق

    پھولوں کو ویسے بھی مرجھانا ہے مرجھائیں گے

    کھڑکیاں کھولیں تو سناٹے چلے آئیں گے

    لاکھ ہم اجلی رکھیں شہر کی دیواروں کو

    شہر نامہ تو بہرحال لکھے جائیں گے

    راکھ رہ جائے گی روداد سنانے کے لیے

    یہ تو مہمان پرندے ہیں چلے جائیں گے

    اپنی لغزش کو تو الزام نہ دے گا کوئی

    لوگ تھک ہار کے مجرم ہمیں ٹھہرائیں گے

    آج جن جگہوں کی تفریح سے محفوظ ہوں میں

    میرے حالات مجھے کل وہاں پہنچائیں گے

    راستے شام کو گھر لے کے نہیں لوٹیں گے

    ہم تبرک کی طرح راہوں میں بٹ جائیں گے

    دن کسی طرح سے کٹ جائے گا سڑکوں پہ شفقؔ

    شام پھر آئے گی ہم شام سے گھبرائیں گے

    مآخذ
    • کتاب : Shahr Aainda (Pg. 52)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY