پرانے گھر میں نیا گھر بسانا چاہتا ہے

مصطفی شہاب

پرانے گھر میں نیا گھر بسانا چاہتا ہے

مصطفی شہاب

MORE BYمصطفی شہاب

    پرانے گھر میں نیا گھر بسانا چاہتا ہے

    وہ سوکھے پھول میں خوشبو جگانا چاہتا ہے

    نہ جانے کیوں ترے معصوم جھوٹ کو آخر

    زمانہ سچ کی طرح آزمانا چاہتا ہے

    ابھی تپاس سے نکلا نہیں ترا سادھو

    کہ پھر سے اک نئی دھونی رمانا چاہتا ہے

    یہ آب دیدہ ٹھہر جائے جھیل کی صورت

    کہ ایک چاند کا ٹکڑا نہانا چاہتا ہے

    خود اپنی آنکھ میں پانی اتارنے والا

    ہماری آنکھ کو صحرا بنانا چاہتا ہے

    تجھے تو باندھ کے رکھا ہے نیستی نے شہابؔ

    تو ہے کہ حد فسوں کو مٹانا چاہتا ہے

    مأخذ :
    • کتاب : Kaghaz Ki Kashtiyan (Pg. 140)
    • Author : Mustafa Shahab
    • مطبع : Qalam Publications, Mumbai (2012)
    • اشاعت : 2012

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY