قفس سے چھٹنے پہ شاد تھے ہم کہ لذت زندگی ملے گی

ابو المجاہد زاہد

قفس سے چھٹنے پہ شاد تھے ہم کہ لذت زندگی ملے گی

ابو المجاہد زاہد

MORE BY ابو المجاہد زاہد

    قفس سے چھٹنے پہ شاد تھے ہم کہ لذت زندگی ملے گی

    یہ کیا خبر تھی بہار گلشن لہو میں ڈوبی ہوئی ملے گی

    جن اہل ہمت کے راستوں میں بچھائے جاتے ہیں آج کانٹے

    انہی کے خون جگر سے رنگیں چمن کی ہر اک کلی ملے گی

    وہ دن بھی تھے جب اندھیری راتوں میں بھی قدم راہ راست پر تھے

    اور آج جب روشنی ملی ہے تو زیست بھٹکی ہوئی ملے گی

    نئی سحر کے حسین سورج تجھے غریبوں سے واسطہ کیا

    جہاں اجالا ہے سیم و زر کا وہیں تری روشنی ملے گی

    کبھی تو نسل و وطن پرستی کی تیرگی کو شکست ہوگی

    کبھی تو شام الم مٹے گی کبھی تو صبح خوشی ملے گی

    وہ ہم نہیں ہیں کہ صرف اپنے ہی گھر میں شمعیں جلا کے بیٹھیں

    وہاں وہاں روشنی کریں گے جہاں جہاں تیرگی ملے گی

    تلاش منزل کا عزم محکم دلیل منزل رسی ہے زاہدؔ

    قدم تو اپنے بڑھاؤ آگے کھلی ہوئی راہ بھی ملے گی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY