راستہ سوچتے رہنے سے کدھر بنتا ہے

جلیل عالیؔ

راستہ سوچتے رہنے سے کدھر بنتا ہے

جلیل عالیؔ

MORE BY جلیل عالیؔ

    راستہ سوچتے رہنے سے کدھر بنتا ہے

    سر میں سودا ہو تو دیوار میں در بنتا ہے

    آگ ہی آگ ہو سینے میں تو کیا پھول جھڑیں

    شعلہ ہوتی ہے زباں لفظ شرر بنتا ہے

    زندگی سوچ عذابوں میں گزاری ہے میاں

    ایک دن میں کہاں انداز نظر بنتا ہے

    مدعی تخت کے آتے ہیں چلے جاتے ہیں

    شہر کا تاج کوئی خاک بسر بنتا ہے

    عشق کی راہ کے معیار الگ ہوتے ہیں

    اک جدا زائچۂ نفع و ضرر بنتا ہے

    اپنا اظہار اسیر روش عام نہیں

    جیسے کہہ دیں وہی معیار ہنر بنتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites