راز دل دوست کو سنا بیٹھے

قلق میرٹھی

راز دل دوست کو سنا بیٹھے

قلق میرٹھی

MORE BYقلق میرٹھی

    راز دل دوست کو سنا بیٹھے

    مفت میں مدعی بنا بیٹھے

    انجمن ہے تری طلسم رشک

    آشنا ہیں جدا جدا بیٹھے

    کثرت سجدہ سے پشیماں ہیں

    کہ ترا نقش پا مٹا بیٹھے

    کل جو تاج و حشم کو چھوڑ اٹھے

    آج وہ تیرے در پہ آ بیٹھے

    کی ہے آخر کو ناشتا شکنی

    داغ پر داغ ہم تو کھا بیٹھے

    طرز ساقی سے دیر کے سب لوگ

    کر رہے ہیں خدا خدا بیٹھے

    شاخ گل کی نزاکتوں سے ڈرے

    بار تھے مشت پر اڑا بیٹھے

    شکوہ عاشق کشی کا فرض نہ تھا

    یاد یہ کیا انہیں دلا بیٹھے

    درد سر تھی دعا محبت میں

    ہاتھ ہم جان سے اٹھا بیٹھے

    اے قیامت تو اٹھ کے پوچھ مزاج

    ہیں وہ کچھ آپ ہی خفا بیٹھے

    روئے اتنے کہ خوں ہوئی امید

    خود جہاز اپنا ہم بہا بیٹھے

    بے تکلف مقام الفت ہے

    داغ اٹھے کہ آبلہ بیٹھے

    آسماں ڈھ پڑا اٹھے فتنے

    جس جگہ لے کے مدعا بیٹھے

    رسم تعظیم عشق تو دیکھو

    درد اٹھا کہ جی مرا بیٹھے

    اے قلقؔ تم سا بد دماغ ہے کون

    چرخ کی ضد پہ گھر لٹا بیٹھے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY