رہے وہ ذکر جو لب ہائے آتشیں سے چلے

وحید اختر

رہے وہ ذکر جو لب ہائے آتشیں سے چلے

وحید اختر

MORE BY وحید اختر

    رہے وہ ذکر جو لب ہائے آتشیں سے چلے

    چلے وہ دور جو رفتار ساتگیں سے چلے

    ہزاروں سال سفر کر کے پھر وہیں پہنچے

    بہت زمانہ ہوا تھا ہمیں زمیں سے چلے

    خرد بنی رہی زنجیر پائے شوق مگر

    جنوں کے جتنے بھی ہیں سلسلے ہمیں سے چلے

    فرات جیت کے بھی تشنہ لب رہی غیرت

    ہزار تیر ستم ظلم کی کمیں سے چلے

    زمانہ ایک ہی رستے پہ لا کے چھوڑے گا

    رواں ہے ایک ہی دھارا کوئی کہیں سے چلے

    گمان و شک کے دوراہے پہ ہم سے آ کے ملے

    وہ قافلے جو کسی منزل یقیں سے چلے

    ہمیں شکست حریفاں کا بھی ملال رہا

    شکستہ دل جو ہم اس بزم دل نشیں سے چلے

    تمام گمرہیاں دیر اور حرم میں پلیں

    تمام سلسلۂ کفر اہل دیں سے چلے

    وحیدؔ سیل قیامت نے راہ روکی تھی

    جو بن کے اشک ہم اس چشم نازنیں سے چلے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY