رنگ جن کے مٹ گئے ہیں ان میں یار آنے کو ہے

آغا حجو شرف

رنگ جن کے مٹ گئے ہیں ان میں یار آنے کو ہے

آغا حجو شرف

MORE BYآغا حجو شرف

    رنگ جن کے مٹ گئے ہیں ان میں یار آنے کو ہے

    دھوم ہے پژمردہ پھولوں میں بہار آنے کو ہے

    یار کوچے میں ترے دھونی رمانے کے لیے

    غمزدہ حسرت زدہ اک خاکسار آنے کو ہے

    رحم کرنا اب کی میری آنکھ کھلنے کی نہیں

    آخری غش مجھ کو اے پروردگار آنے کو ہے

    کوئی دم میں حشر ہوگا کچھ خبر بھی ہے تمہیں

    بے قراری لاتی ہے اک بے قرار آنے کو ہے

    بھاگے جاتے ہیں بگولے کانپتا ہے نجد قیس

    خاک اڑی کس کی یہاں کس کا غبار آنے کو ہے

    ہوش اڑے جاتے ہیں یارو روح ہے سہمی ہوئی

    صید گاہ عشق سے کس کا شکار آنے کو ہے

    جان جاں تو کیجو جاں بخشی کہ تجھ کو دیکھنے

    ایک بے کس بے خود و بے اختیار آنے کو ہے

    درد تنہائی سے چھڑاتا ہے عالم نزع کا

    بے قراری کوچ کرتی ہے قرار آنے کو ہے

    گل رخوں کی بزم میں جانے کو ہے میرا غبار

    پیشوائی کے لئے ابر بہار آنے کو ہے

    اب مری آنکھوں کو ہوگا ولولہ دیدار کا

    حسرت ان میں آ چکی ہے انتظار آنے کو ہے

    ہوگی اب آراستہ تربت شہید ناز کی

    چادر گل بچھتی ہے شمع مزار آنے کو ہے

    بے وفا تم با وفا میں دیکھیے ہوتا ہے کیا

    غیظ میں آنے کو تم ہو مجھ کو پیار آنے کو ہے

    غنچہ و گل کر رہی ہیں کیوں گریباں چاک چاک

    کون سے رشک چمن کا دل فگار آنے کو ہے

    ہجر میں دم گھٹنے کو ہے کوچ ہے تفریح کا

    سانس رکنے کو ہے ہچکی چند بار آنے کو ہے

    بیٹھی ہے لیلیٰ گریباں پھاڑنے کے واسطے

    کس کے مجنوں کا لباس تار تار آنے کو ہے

    غش سے چونکو آنکھ کھولو دم نہ توڑو اے شرفؔ

    شکر کا سجدہ کرو اٹھ بیٹھو یار آنے کو ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY