رنگ خوشبو اور موسم کا بہانا ہو گیا

خالد غنی

رنگ خوشبو اور موسم کا بہانا ہو گیا

خالد غنی

MORE BYخالد غنی

    رنگ خوشبو اور موسم کا بہانا ہو گیا

    اپنی ہی تصویر میں چہرہ پرانا ہو گیا

    شیلف پر رکھی کتابیں سوچتی ہیں رات دن

    گھر سے دفتر کا سفر کتنا سہانا ہو گیا

    کس قدر شہرت ہے ان ہنستے ہوئے لمحات میں

    آنکھ سے گزرا ہر اک منظر پرانا ہو گیا

    اب مری تنہائی بھی مجھ سے بغاوت کر گئی

    کل یہاں جو کچھ ہوا تھا سب فسانا ہو گیا

    یاد آتی جب کبھی احساس کی نیلم پری

    گھر کے کالے دیو کا قصہ پرانا ہو گیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY