رستے میں لٹ گیا ہے تو کیا قافلہ تو ہے

جمیل ملک

رستے میں لٹ گیا ہے تو کیا قافلہ تو ہے

جمیل ملک

MORE BY جمیل ملک

    رستے میں لٹ گیا ہے تو کیا قافلہ تو ہے

    یارو نئے سفر کا ابھی حوصلہ تو ہے

    واماندگی سے اٹھ نہیں سکتا تو کیا ہوا

    منزل سے آشنا نہ سہی نقش پا تو ہے

    ہاتھوں میں ہاتھ لے کے یہاں سے گزر چلیں

    قدموں میں پل صراط سہی راستا تو ہے

    مانگے کی روشنی تو کوئی روشنی نہیں

    اس دور مستعار میں اپنا دیا تو ہے

    یہ کیا ضرور ہے میں کہوں اور تو سنے

    جو میرا حال ہے وہ تجھے بھی پتا تو ہے

    اپنی شکایتیں نہ سہی تیرا غم سہی

    اظہار داستاں کا کوئی سلسلہ تو ہے

    ہم سے کوئی تعلق خاطر تو ہے اسے

    وہ یار با وفا نہ سہی بے وفا تو ہے

    وہ آئے یا نہ آئے ملاقات ہو نہ ہو

    رنگ سحر کے پاس خرام صبا تو ہے

    پاؤں کی چاپ سے مری دھڑکن ہے ہم نوا

    اس دشت ہول میں کوئی نغمہ سرا تو ہے

    سورج ہمارے گھر نہیں آیا تو کیا ہوا

    دو چار آنگنوں میں اجالا ہوا تو ہے

    کانٹا نکل بھی جائے گا جب وقت آئے گا

    کانٹے کے دل میں بھی کوئی کانٹا چبھا تو ہے

    میں ریزہ ریزہ اڑتا پھروں گا ہوا کے ساتھ

    صدیوں میں جھانک کر بھی مجھے دیکھنا تو ہے

    آشوب آگہی کی شب بے کنار میں

    تیرے لیے جمیلؔ کوئی سوچتا تو ہے

    مآخذ:

    • کتاب : naquush (Pg. 254)
    • اشاعت : 1979

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY