روشنی پھیلی تو سب کا رنگ کالا ہو گیا

آزاد گلاٹی

روشنی پھیلی تو سب کا رنگ کالا ہو گیا

آزاد گلاٹی

MORE BY آزاد گلاٹی

    روشنی پھیلی تو سب کا رنگ کالا ہو گیا

    کچھ دیئے ایسے جلے ہر سو اندھیرا ہو گیا

    جس نے میرا ساتھ چھوڑا اور کسی کا ہو گیا

    سچ تو یہ ہے مجھ سے بھی بڑھ کر وہ تنہا ہو گیا

    وقت کا یہ موڑ کیسا ہے کہ تجھ سے مل کے بھی

    تجھ کو کھو دینے کا غم کچھ اور گہرا ہو گیا

    ہم نے تنہائی کی چادر تان لی اور سو گئے

    لوگ جب کہنے لگے اٹھو سویرا ہو گیا

    ڈوبتا سورج ہوں میں وہ میرا سایا دیکھ کر

    سوچتا یہ ہے قد اس کا مجھ سے لمبا ہو گیا

    چند لمحے تھے جو برسوں بعد تک بیتے نہیں

    کچھ برس وہ بھی تھے جن کا ایک لمحہ ہو گیا

    جب زباں کھولی تو سب کو نیند سی آنے لگی

    چپ ہوئے تو یوں لگا ہر شخص بہرا ہو گیا

    ساتھ اس کا چھوڑ کر آئے تو یہ عالم رہا

    ہم نے جس چہرے کو دیکھا اس کا چہرہ ہو گیا

    اس تعلق کو بھلا آزادؔ میں کیا نام دوں

    وہ کسی کا ہو کے بھی کچھ اور میرا ہو گیا

    مآخذ:

    • کتاب : Dasht-e-Sada (Pg. 55)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY