روکے سے کہیں حادثۂ وقت رکا ہے

علی احمد جلیلی

روکے سے کہیں حادثۂ وقت رکا ہے

علی احمد جلیلی

MORE BY علی احمد جلیلی

    روکے سے کہیں حادثۂ وقت رکا ہے

    شعلوں سے بچا شہر تو شبنم سے جلا ہے

    کمرہ کسی مانوس سی خوشبو سے بسا ہے

    جیسے کوئی اٹھ کر ابھی بستر سے گیا ہے

    یہ بات الگ ہے کہ میں جیتا ہوں ابھی تک

    ہونے کو تو سو بار مرا قتل ہوا ہے

    پھولوں نے چرا لی ہیں مجھے دیکھ کے آنکھیں

    کانٹوں نے بڑی دور سے پہچان لیا ہے

    اس سمت ابھی خون کے پیاسے ہیں ہزاروں

    اس سمت بس اک قطرۂ خوں اور بچا ہے

    روداد چراغاں تو بہت خوب ہے لیکن

    کیا جانیے کس کس کا لہو ان میں جلا ہے

    اس رنگ تغزل پہ علیؔ چھاپ ہے میری

    یہ ذوق سخن مجھ کو وراثت میں ملا ہے

    مآخذ:

    • Book : Karwaan-e-Ghazal (Pg. 268)
    • Author : Farooq Argali
    • مطبع : Farid Book Depot (Pvt.) Ltd (2004)
    • اشاعت : 2004

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY