رخصت رقص بھی ہے پاؤں میں زنجیر بھی ہے

اختر ہوشیارپوری

رخصت رقص بھی ہے پاؤں میں زنجیر بھی ہے

اختر ہوشیارپوری

MORE BYاختر ہوشیارپوری

    رخصت رقص بھی ہے پاؤں میں زنجیر بھی ہے

    سر منظر مگر اک بولتی تصویر بھی ہے

    میرے شانوں پہ فرشتوں کا بھی ہے بار گراں

    اور مرے سامنے اک ملبے کی تعمیر بھی ہے

    زائچہ اپنا جو دیکھا ہے تو سر یاد آیا

    جیسے ان ہاتھوں پہ کندہ کوئی تقدیر بھی ہے

    خواہشیں خون میں اتری ہیں صحیفوں کی طرح

    ان کتابوں میں ترے ہاتھ کی تحریر بھی ہے

    جس سے ملنا تھا مقدر وہ دوبارہ نہ ملا

    اور امکاں نہ تھا جس کا وہ عناں گیر بھی ہے

    سر دیوار نوشتے بھی کئی دیکھتا ہوں

    پس دیوار مگر حسرت تعمیر بھی ہے

    میں یہ سمجھا تھا سلگتا ہوں فقط میں ہی یہاں

    اب جو دیکھا تو یہ احساس ہمہ گیر بھی ہے

    یوں نہ دیکھو کہ زمانہ متوجہ ہو جائے

    کہ اس انداز نظر میں مری تشہیر بھی ہے

    میں نے جو خواب ابھی دیکھا نہیں ہے اخترؔ

    میرا ہر خواب اسی خواب کی تعبیر بھی ہے

    مأخذ :
    • کتاب : Monthly Usloob (Pg. 364)
    • Author : Mushfiq Khawaja
    • مطبع : Usloob 3D 9—26 Nazimabad karachi   180007 (Oct. õ Nov. 1983,Issue No. 5-6)
    • اشاعت : Oct. õ Nov. 1983,Issue No. 5-6

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY