سائے ڈھلنے چراغ جلنے لگے

امجد اسلام امجد

سائے ڈھلنے چراغ جلنے لگے

امجد اسلام امجد

MORE BYامجد اسلام امجد

    سائے ڈھلنے چراغ جلنے لگے

    لوگ اپنے گھروں کو چلنے لگے

    اتنی پر پیچ ہے بھنور کی گرہ

    جیسے نفرت دلوں میں پلنے لگے

    دور ہونے لگی جرس کی صدا

    کارواں راستے بدلنے لگے

    اس کے لہجے میں برف تھی لیکن

    چھو کے دیکھا تو ہاتھ جلنے لگے

    اس کے بند قبا کے جادو سے

    سانپ سے انگلیوں میں چلنے لگے

    راہ گم کردہ طائروں کی طرح

    پھر ستارے سفر پہ چلنے لگے

    پھر نگاہوں میں دھول اڑتی ہے

    عکس پھر آئنے بدلنے لگے

    مآخذ
    • کتاب : Saweera (magazine-56 (Pg. 155)
    • Author : Salahuddin Mahmood
    • مطبع : Saweera art Press, Pakistan (1979)
    • اشاعت : 1979

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY