سانحہ یہ بھی اک روز کر جاؤں گا

مظہر امام

سانحہ یہ بھی اک روز کر جاؤں گا

مظہر امام

MORE BY مظہر امام

    سانحہ یہ بھی اک روز کر جاؤں گا

    وقت کی پالکی سے اتر جاؤں گا

    اپنے ٹوٹے ہوئے خواب کی کرچیاں

    تیری آسودہ آنکھوں میں بھر جاؤں گا

    روشنی کے سفینے بلاتے رہیں

    ساحل شب سے ہو کر گزر جاؤں گا

    اجنبی وادیاں کوئی منزل نہ گھر

    راستے میں کہیں بھی اتر جاؤں گا

    میرے دشمن کے دل میں جو برسوں سے ہے

    وہ خلا بھی میں اک روز بھر جاؤں گا

    دوستوں سے ملاقات کی شام ہے

    یہ سزا کاٹ کر اپنے گھر جاؤں گا

    مآخذ:

    • کتاب : paalkii kahkashaa.n (Pg. 120)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY