سارے معمولات میں اک تازہ گردش چاہئے

حکیم منظور

سارے معمولات میں اک تازہ گردش چاہئے

حکیم منظور

MORE BYحکیم منظور

    سارے معمولات میں اک تازہ گردش چاہئے

    نم زمیں پر خشک موسم کی نوازش چاہئے

    شہر کے آئین میں یہ مد بھی لکھی جائے گی

    زندہ رہنا ہو تو قاتل کی سفارش چاہئے

    میری مشکل بھاگتے لمحوں کو پکڑوں کس طرح

    ضد اسے ان دیکھے خوابوں کی نمائش چاہئے

    بھیجتا میں کس کو صبحوں کی کنواری روشنی

    اس کو بوڑھی رات کے رنگوں کی تابش چاہئے

    سوکھتے الفاظ کے موسم میں حرف تر ہوں میں

    پھر سزا پہلے سماعت کی نوازش چاہئے

    جو ہمارا تھا وہ نکلا آفتابوں کا حلیف

    کس خدا سے اب کہا جائے کہ بارش چاہئے

    باریابی شرط خاموشی پہ ہے وہ اس طرح

    پہلے ہی تفصیل احوال گزارش چاہئے

    بزدلی میری تھی جو منظورؔ میں زخمی ہوا

    وہ سپر بردار تھے ان کی ستائش چاہئے

    مأخذ :
    • کتاب : URDU-1983 (Pg. 132)
    • Author : Publishers & Advertisers J-6,Krishan Nagar
    • مطبع : NAND KISHORE VIKRAM (1983)
    • اشاعت : 1983

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY