سایۂ زلف نہیں شعلۂ رخسار نہیں

کاملؔ بہزادی

سایۂ زلف نہیں شعلۂ رخسار نہیں

کاملؔ بہزادی

MORE BY کاملؔ بہزادی

    سایۂ زلف نہیں شعلۂ رخسار نہیں

    کیا ترے شہر میں سرمایۂ دیدار نہیں

    وقت پڑ جائے تو جاں سے بھی گزر جائیں گے

    ہم دوانے ہیں محبت کے اداکار نہیں

    کیا ترے شہر کے انسان ہیں پتھر کی طرح

    کوئی نغمہ کوئی پائل کوئی جھنکار نہیں

    کس لیے اپنی خطاؤں پہ رہیں شرمندہ

    ہم خدا کے ہیں زمانے کے گنہ گار نہیں

    سرخ رو ہو کے نکلنا تو بہت مشکل ہے

    دست قاتل میں یہاں ساز ہے تلوار نہیں

    مول کیا زخم دل و جاں کا ملے گا کاملؔ

    شاخ گل کا بھی یہاں کوئی خریدار نہیں

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    سایۂ زلف نہیں شعلۂ رخسار نہیں نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY