سچ تو یہ ہے کہ تمناؤں کی جاں ہوتی ہے

مہیش چندر نقش

سچ تو یہ ہے کہ تمناؤں کی جاں ہوتی ہے

مہیش چندر نقش

MORE BYمہیش چندر نقش

    سچ تو یہ ہے کہ تمناؤں کی جاں ہوتی ہے

    وہی اک بات جو حیرت میں نہاں ہوتی ہے

    حال کہہ دیتے ہیں نازک سے اشارے اکثر

    کتنی خاموش نگاہوں کی زباں ہوتی ہے

    میرے احساس و تفکر میں سلگتی ہے جو آگ

    وہی مظلوم کے اشکوں میں نہاں ہوتی ہے

    ہائے وہ وقت کہ جب ان کی حسیں آنکھوں سے

    ایک پر کیف تجلی سی عیاں ہوتی ہے

    لوگ کہتے ہیں جسے حسن ادا کی شوخی

    یہی رنگین اشاروں کا بیاں ہوتی ہے

    کتنی پیاری ہے وہ معصوم تمنا اے دوست

    جو تذبذب کی فضاؤں میں جواں ہوتی ہے

    مأخذ :
    • کتاب : Andaaz (Pg. 79)
    • Author : Mahesh Chandr Naqsh
    • مطبع : Sangam Kitab Ghar,  Delhi (1962)
    • اشاعت : 1962

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY