اچھا تو تم ایسے تھے

شارق کیفی

اچھا تو تم ایسے تھے

شارق کیفی

MORE BYشارق کیفی

    اچھا تو تم ایسے تھے

    دور سے کیسے لگتے تھے

    ہاتھ تمہارے شال میں بھی

    کتنے ٹھنڈے رہتے تھے

    سامنے سب کے اس سے ہم

    کھنچے کھنچے سے رہتے تھے

    آنکھ کہیں پر ہوتی تھی

    بات کسی سے کرتے تھے

    قربت کے ان لمحوں میں

    ہم کچھ اور ہی ہوتے تھے

    ساتھ میں رہ کر بھی اس سے

    چلتے وقت ہی ملتے تھے

    اتنے بڑے ہو کے بھی ہم

    بچوں جیسا روتے تھے

    جلد ہی اس کو بھول گئے

    اور بھی دھوکے کھانے تھے

    موضوعات :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY