صدمہ تو ہے مجھے بھی کہ تجھ سے جدا ہوں میں

قتیل شفائی

صدمہ تو ہے مجھے بھی کہ تجھ سے جدا ہوں میں

قتیل شفائی

MORE BY قتیل شفائی

    صدمہ تو ہے مجھے بھی کہ تجھ سے جدا ہوں میں

    لیکن یہ سوچتا ہوں کہ اب تیرا کیا ہوں میں

    بکھرا پڑا ہے تیرے ہی گھر میں ترا وجود

    بے کار محفلوں میں تجھے ڈھونڈتا ہوں میں

    میں خودکشی کے جرم کا کرتا ہوں اعتراف

    اپنے بدن کی قبر میں کب سے گڑا ہوں میں

    کس کس کا نام لاؤں زباں پر کہ تیرے ساتھ

    ہر روز ایک شخص نیا دیکھتا ہوں میں

    کیا جانے کس ادا سے لیا تو نے میرا نام

    دنیا سمجھ رہی ہے کہ سچ مچ ترا ہوں میں

    پہنچا جو تیرے در پہ تو محسوس یہ ہوا

    لمبی سی ایک قطار میں جیسے کھڑا ہوں میں

    لے میرے تجربوں سے سبق اے مرے رقیب

    دو چار سال عمر میں تجھ سے بڑا ہوں میں

    جاگا ہوا ضمیر وہ آئینہ ہے قتیلؔ

    سونے سے پہلے روز جسے دیکھتا ہوں میں

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    جگجیت سنگھ

    جگجیت سنگھ

    نعمان شوق

    صدمہ تو ہے مجھے بھی کہ تجھ سے جدا ہوں میں نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY