سفر کا ایک نیا سلسلہ بنانا ہے

شہباز خواجہ

سفر کا ایک نیا سلسلہ بنانا ہے

شہباز خواجہ

MORE BYشہباز خواجہ

    سفر کا ایک نیا سلسلہ بنانا ہے

    اب آسمان تلک راستہ بنانا ہے

    تلاشتے ہیں ابھی ہم سفر بھی کھوئے ہوئے

    کہ منزلوں سے ادھر راستہ بنانا ہے

    سمیٹنا ہے ابھی حرف حرف حسن ترا

    غزل کو اپنی ترا آئینہ بنانا ہے

    مجھے یہ ضد ہے کبھی چاند کو اسیر کروں

    سو اب کے جھیل میں اک دائرہ بنانا ہے

    سکوت شام الم تو ہی کچھ بتا کہ تجھے

    کہاں پہ خواب کہاں رت جگا بنانا ہے

    اسی کو آنکھ میں تصویر کرتے رہتے ہیں

    اب اس سے ہٹ کے ہمیں اور کیا بنانا ہے

    در ہوس پہ کہاں تک جھکائیں سر شہبازؔ

    ضرورتوں کو کہاں تک خدا بنانا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY