سفینہ لے گئے موجوں کی گرم جوشی میں

انور سدید

سفینہ لے گئے موجوں کی گرم جوشی میں

انور سدید

MORE BYانور سدید

    سفینہ لے گئے موجوں کی گرم جوشی میں

    ہزیمت آئی نظر جب کنارا کوشی میں

    نشہ چڑھا تو زباں پر نہ اختیار رہا

    وہ منکشف ہوئے خود اپنی بادہ نوشی میں

    بنا لیا اسے ثانی پھر اپنی فطرت کا

    سکوں جو ملنے لگا ان کو زہر نوشی میں

    قبول رب کریم و رحیم نے کر لی

    مری زباں پہ جو آئی دعا خموشی میں

    کھلی زبان تو ظرف ان کا ہو گیا ظاہر

    ہزار بھید چھپا رکھے تھے خموشی میں

    پسند کی نہ زمانے نے سادگی میری

    بھرم رکھا ہے خدا نے سفید پوشی میں

    زد عتاب میں ان کے جو آ گئے انورؔ

    نہ جانے کہہ گئے کیا کیا وہ گرم جوشی میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY