سحر ہوئی تو خیالوں نے مجھ کو گھیر لیا

بسمل صابری

سحر ہوئی تو خیالوں نے مجھ کو گھیر لیا

بسمل صابری

MORE BYبسمل صابری

    سحر ہوئی تو خیالوں نے مجھ کو گھیر لیا

    جب آئی شب ترے خوابوں نے مجھ کو گھیر لیا

    مرے لبوں پہ ابھی نام تھا بہاروں کا

    ہجوم شوق میں خاروں نے مجھ کو گھیر لیا

    کبھی جنوں کے زمانے کبھی فراق رتیں

    کہاں کہاں تری یادوں نے مجھ کو گھیر لیا

    نکل کے آ تو گیا گہرے پانیوں سے مگر

    کئی طرح کے سرابوں نے مجھ کو گھیر لیا

    یہ جی میں تھا کہ نکل جاؤں تجھ سے دور کہیں

    کہ تیرے دھیان کی بانہوں نے مجھ کو گھیر لیا

    جب آیا عید کا دن گھر میں بے بسی کی طرح

    تو میرے پھول سے بچوں نے مجھ کو گھیر لیا

    ہجوم رنج سے کیسے نکل سکے بسملؔ

    تری تلاش کے رشتوں نے مجھ کو گھیر لیا

    مأخذ :
    • کتاب : Karwaan-e-Ghazal (Pg. 491)
    • Author : Farooq Argali
    • مطبع : Farid Book Depot (Pvt.) Ltd (2004)
    • اشاعت : 2004

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY