روشنی کچھ تو ملے جنگل میں

محمد علوی

روشنی کچھ تو ملے جنگل میں

محمد علوی

MORE BYمحمد علوی

    روشنی کچھ تو ملے جنگل میں

    آگ لگ جائے گھنے جنگل میں

    آپ کو شہر میں ڈر لگتا ہے

    ہم تو بے خوف رہے جنگل میں

    ایک اک شاخ زباں ہو جائے

    کوئی آواز تو دے جنگل میں

    پیڑ سے پیڑ لگا رہتا ہے

    پیار ہوتا ہے بھرے جنگل میں

    شہر میں کان ترستے ہی رہے

    چہچہے ہم نے سنے جنگل میں

    شام ہوتے ہی اتر آتے ہیں

    شوخ پریوں کے پرے جنگل میں

    شوخ ہرنوں نے قلانچیں ماریں

    مور کے رقص ہوئے جنگل میں

    اب بھی قدموں کے نشاں ملتے ہیں

    گاؤں سے دور پرے جنگل میں

    اب بھی پھرتی ہے کوئی پرچھائیں

    رات کے وقت بھرے جنگل میں

    خوب تھے حضرت آدم علویؔ

    بستیاں چھوڑ گئے جنگل میں

    موضوعات :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY