سیل گریہ کا سینے سے رشتہ بہت

اسعد بدایونی

سیل گریہ کا سینے سے رشتہ بہت

اسعد بدایونی

MORE BYاسعد بدایونی

    سیل گریہ کا سینے سے رشتہ بہت

    یعنی ہیں اس خرابے میں دریا بہت

    میں نے اس نام سے شام رنگین کی

    میں نے اس کے حوالے سے سوچا بہت

    دیکھنے کے لیے سارا عالم بھی کم

    چاہنے کے لیے ایک چہرا بہت

    اس سے آگے تو بس خواب ہی خواب تھے

    میں نے اس کو مجھے اس نے دیکھا بہت

    میں بھی الجھا ہوں منظر کے نیرنگ سے

    میرے پیروں سے لپٹی ہے دنیا بہت

    رفتگاں کے قدم جیسے آہو کا رم

    جانے والوں کو رستوں نے روکا بہت

    جنگجو معرکوں میں ہوئے سرخ رو

    بستیاں بین کرتی ہیں تنہا بہت

    مأخذ :
    • کتاب : Ghazal Calendar-2015 (Pg. 31.01.2015)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY