سیر کرنے سے ہوا لینے سے

کاشف حسین غائر

سیر کرنے سے ہوا لینے سے

کاشف حسین غائر

MORE BYکاشف حسین غائر

    سیر کرنے سے ہوا لینے سے

    کام ہے دل کو مزہ لینے سے

    دھوپ سائے کی طرح پھیل گئی

    ان درختوں کی دعا لینے سے

    اس طرح حال کوئی چھپتا ہے

    اس طرح زخم چھپا لینے سے

    کوئی مقبول دعا ہوتی ہے

    صرف ہاتھوں کو اٹھا لینے سے

    میرے جیسا وہ نہیں ہو سکتا

    میرا انداز چرا لینے سے

    رات کچھ اچھی گزر جاتی ہے

    چاند کو چھت پہ بلا لینے سے

    وقت بے وقت کا آزار ملا

    وقت کو ساتھ لگا لینے سے

    آج بھی نام وہی ہے اپنا

    کیا ہوا نام کما لینے سے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY