سیر میں تیری ہے بلبل بوستاں بے کار ہے
سیر میں تیری ہے بلبل بوستاں بے کار ہے
بوستاں غیرت سے خود اجڑا خزاں بے کار ہے
چھوڑ کر آنسو کو لخت دل گیا ہمراہ آہ
ناؤ خشکی میں چلی آب رواں بے کار ہے
گہہ زمیں سے بام پر ہوں بام سے گہہ بر زمیں
اس تپش سے اپنے گھر کی نردباں بے کار ہے
آئی اب فصل گل اور مجھ عندلیب زار کا
ہے نشیمن شاخ گل پر آشیاں بے کار ہے
یار سے اور ہم سے محفل میں بچا کر چشم غیر
ہے سخن ایما میں باہم اور زباں بے کار ہے
میرے ڈر سے تو نے بٹھلایا تھا در پر پاسباں
سو میں حسرت سے موا اب پاسباں بے کار ہے
خلق کو مارے ہے چشم اس کی معطل ہے قضا
فتنہ ہے اس کی نگہ میں آسماں بے کار ہے
مانگتا ہوں بوسہ میں جس دم تو اس دم یار کے
کار میں لب پر نہیں ہے دل میں ہاں بے کار ہے
کار فرما دیکھ کر غیروں پہ میں اس سے کہا
کار ہے مجھ سے بھی کچھ بولا کہ ہاں بے کار ہے
اے بقائےؔ کارواں اس ریختے کی ہر ردیف
گرچہ ہے بے کار پر بتلا کہاں بے کار ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.