سنگ در اس کا ہر اک در پہ لگا ملتا ہے

عرش صدیقی

سنگ در اس کا ہر اک در پہ لگا ملتا ہے

عرش صدیقی

MORE BYعرش صدیقی

    سنگ در اس کا ہر اک در پہ لگا ملتا ہے

    دل کو آوارہ مزاجی کا مزا ملتا ہے

    جو بھی گل ہے وہ کسی پیرہن گل پر ہے

    جو بھی کانٹا ہے کسی دل میں چبھا ملتا ہے

    شوق وہ دام کہ جو رخصت پرواز نہ دے

    دل وہ طائر کہ اسے یوں بھی مزا ملتا ہے

    وہ جو بیٹھے ہیں بنے ناصح مشفق سر پر

    کوئی پوچھے تو بھلا آپ کو کیا ملتا ہے

    ہم کہ مایوس نہیں ہیں انہیں پا ہی لیں گے

    لوگ کہتے ہیں کہ ڈھونڈے سے خدا ملتا ہے

    دام تزویر نہ ہو شوق گلو گیر نہ ہو

    مے کدہ عرشؔ ہمیں آج کھلا ملتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY