سر خیال میں جب بھول بھی گئی کہ میں ہوں

صائمہ اسما

سر خیال میں جب بھول بھی گئی کہ میں ہوں

صائمہ اسما

MORE BY صائمہ اسما

    سر خیال میں جب بھول بھی گئی کہ میں ہوں

    اچانک ایک عجب بات یہ سنی کہ میں ہوں

    تلاش کر کے مجھے لوٹنے کو تھا کوئی

    مرے وجود کی خوشبو پکار اٹھی کہ میں ہوں

    کہ تیرگی میں پلی آنکھ کو یقیں آ جائے

    ذرا بلند ہو آہنگ روشنی کہ میں ہوں

    وہ خالی جان کے گھر لوٹنے کو آیا تھا

    مرے عدو کو خبر آج ہو گئی کہ میں ہوں

    نہ جانے کیسی نگاہوں سے موت نے دیکھا

    ہوئی ہے نیند سے بیدار زندگی کہ میں ہوں

    لپیٹ دو صف ماتم اٹھا رکھو نوحے

    پکارتا سر محشر سنا کوئی کہ میں ہوں

    مآخذ:

    • کتاب : Gul-e-Dupahar (Pg. 85)
    • Author : Saima Asma
    • مطبع : Idarah Batool, Sayyed Palaza, Firozpur Road, Lahore (2006)
    • اشاعت : 2006

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY