سواد شام نہ رنگ سحر کو دیکھتے ہیں

احمد محفوظ

سواد شام نہ رنگ سحر کو دیکھتے ہیں

احمد محفوظ

MORE BY احمد محفوظ

    سواد شام نہ رنگ سحر کو دیکھتے ہیں

    بس اک ستارۂ وحشت اثر کو دیکھتے ہیں

    کسی کے آنے کی جس سے خبر بھی آتی نہیں

    نہ جانے کب سے اسی رہ گزر کو دیکھتے ہیں

    خدا گواہ کہ آئینۂ نفس ہی میں ہم

    خود اپنی زندگیٔ مختصر کو دیکھتے ہیں

    تو کیا بس ایک ٹھکانا وہی ہے دنیا میں

    وہ در نہیں تو کسی اور در کو دیکھتے ہیں

    سنا ہے شہر کا نقشہ بدل گیا محفوظؔ

    تو چل کے ہم بھی ذرا اپنے گھر کو دیکھتے ہیں

    مآخذ:

    • کتاب : Ghazal Ke Rang (Pg. 17)
    • Author : Akram Naqqash, Sohil Akhtar
    • مطبع : Aflaak Publications, Gulbarga (2014)
    • اشاعت : 2014

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY