صحن چمن میں جانا میرا اور فضا میں بکھر جانا

زیب غوری

صحن چمن میں جانا میرا اور فضا میں بکھر جانا

زیب غوری

MORE BYزیب غوری

    صحن چمن میں جانا میرا اور فضا میں بکھر جانا

    شاخ گل کے ساتھ لچکنا صبا کے ساتھ گزر جانا

    سحر بھری دو آنکھیں میرا پیچھا کرتی رہتی ہیں

    ناگن کا وہ مڑ کر دیکھنا پھر وادی میں اتر جانا

    زخم ہی تیرا مقدر ہیں دل تجھ کو کون سنبھالے گا

    اے میرے بچپن کے ساتھی میرے ساتھ ہی مر جانا

    سورج کی ان آخری مدھم کرنوں کو گن سکتے ہیں

    دن کا وہ موتی سا چمکنا پھر پانی میں اتر جانا

    یہیں کہیں صحرا میں ٹھہر جا دم لینے کی بات نہیں

    خاک سوا رکھا ہی کیا ہے یہاں سے اور کدھر جانا

    اس سے اب دشت امکاں کے سفر حضر کا پوچھنا کیا

    جس نے راہ گزر کے گھنے پیڑوں کو بھی درد سر جانا

    ایک نہاں خانے کے طاق پر آئینہ رکھا تھا زیبؔ

    ایک جھلک سی اپنی دیکھنا اور وہ میرا ڈر جانا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY