شب فراق ہے اور نیند آئی جاتی ہے

جگر مراد آبادی

شب فراق ہے اور نیند آئی جاتی ہے

جگر مراد آبادی

MORE BY جگر مراد آبادی

    شب فراق ہے اور نیند آئی جاتی ہے

    کچھ اس میں ان کی توجہ بھی پائی جاتی ہے

    یہ عمر عشق یوں ہی کیا گنوائی جاتی ہے

    حیات زندہ حقیقت بنائی جاتی ہے

    بنا بنا کے جو دنیا مٹائی جاتی ہے

    ضرور کوئی کمی ہے کہ پائی جاتی ہے

    ہمیں پہ عشق کی تہمت لگائی جاتی ہے

    مگر یہ شرم جو چہرے پہ چھائی جاتی ہے

    خدا کرے کہ حقیقت میں زندگی بن جائے

    وہ زندگی جو زباں تک ہی پائی جاتی ہے

    گناہ گار کے دل سے نہ بچ کے چل زاہد

    یہیں کہیں تری جنت بھی پائی جاتی ہے

    نہ سوز عشق نہ برق جمال پر الزام

    دلوں میں آگ خوشی سے لگائی جاتی ہے

    کچھ ایسے بھی تو ہیں رندان پاک باز جگرؔ

    کہ جن کو بے مئے و ساغر پلائی جاتی ہے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    طلعت محمود

    طلعت محمود

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    شب فراق ہے اور نیند آئی جاتی ہے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY