شب کے غم دن کے عذابوں سے الگ رکھتا ہوں

ظفر صہبائی

شب کے غم دن کے عذابوں سے الگ رکھتا ہوں

ظفر صہبائی

MORE BYظفر صہبائی

    شب کے غم دن کے عذابوں سے الگ رکھتا ہوں

    ساری تعبیروں کو خوابوں سے الگ رکھتا ہوں

    جو پڑھا ہے اسے جینا ہی نہیں ہے ممکن

    زندگی کو میں کتابوں سے الگ رکھتا ہوں

    اس کی تقدیس پہ دھبہ نہیں لگنے دیتا

    دامن دل کو حسابوں سے الگ رکھتا ہوں

    یہ عمل ریت کو پانی نہیں بننے دیتا

    پیاس کو اپنی سرابوں سے الگ رکھتا ہوں

    اس کے در پر نہیں لکھتا میں حساب دنیا

    دل کی مسجد کو خرابوں سے الگ رکھتا ہوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY