شدید حبس میں راحت ہوا سے ہوتی ہے

خورشید طلب

شدید حبس میں راحت ہوا سے ہوتی ہے

خورشید طلب

MORE BY خورشید طلب

    شدید حبس میں راحت ہوا سے ہوتی ہے

    بحال اپنی طبیعت ہوا سے ہوتی ہے

    کوئی چراغ جلاتا نہیں سلیقے سے

    مگر سبھی کو شکایت ہوا سے ہوتی ہے

    لچک کے ٹوٹ نہ جائے کہیں یہ شاخ بدن

    چلے جو تیز تو وحشت ہوا سے ہوتی ہے

    کہیں دھویں کے سوا کچھ نظر نہیں آتا

    کبھی کبھی وہ شرارت ہوا سے ہوتی ہے

    ہوا سے کہہ دو کہ کچھ دیر کو ٹھہر جائے

    خجل ہماری عبارت ہوا سے ہوتی ہے

    ازل سے اس کی طبیعت میں سرکشی ہے طلبؔ

    کہاں کسی کی اطاعت ہوا سے ہوتی ہے

    RECITATIONS

    خورشید طلب

    خورشید طلب

    خورشید طلب

    شدید حبس میں راحت ہوا سے ہوتی ہے خورشید طلب

    مآخذ:

    • کتاب : Jahaan Gard (Pg. 163)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY