شجر سمجھ کے مرا احترام کرتے ہیں

عباس تابش

شجر سمجھ کے مرا احترام کرتے ہیں

عباس تابش

MORE BY عباس تابش

    شجر سمجھ کے مرا احترام کرتے ہیں

    پرندے رات کو مجھ میں قیام کرتے ہیں

    سنو تم آخر شب گفتگو درختوں کی

    یہ کم کلام بھی کیا کیا کلام کرتے ہیں

    کہاں کی زندگی ہم کو تو شرم مار گئی

    کہ تیری چیز ہے اور تیرے نام کرتے ہیں

    ہمیں تو اس لیے جائے نماز چاہئے ہے

    کہ ہم وجود سے باہر قیام کرتے ہیں

    اگر کبھی مجھے موجودگاں سے فرصت ہو

    تو رفتگاں مری نیندیں حرام کرتے ہیں

    لہو کے گھونٹ نہ پیتا تو اور کیا کرتا

    وہ کہہ رہے تھے ترا انتظام کرتے ہیں

    ہمیں سماعت بے لفظ کی اجازت ہے

    ہمارے ساتھ پرندے کلام کرتے ہیں

    ابھی تو گھر میں نہ بیٹھیں کہو بزرگوں سے

    ابھی تو شہر کے بچے سلام کرتے ہیں

    مآخذ:

    • کتاب : Ishq Abaad (kulliyat) (Pg. 657)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY