شمعیں روشن ہیں آبگینوں میں

وامق جونپوری

شمعیں روشن ہیں آبگینوں میں

وامق جونپوری

MORE BYوامق جونپوری

    شمعیں روشن ہیں آبگینوں میں

    داغ دل جل رہے ہیں سینوں میں

    پھر کہیں بندگی کا نام آیا

    پھر شکن پڑ گئی جبینوں میں

    لے کے تیشہ اٹھا ہے پھر مزدور

    ڈھل رہے ہیں جبل مشینوں میں

    ذہن میں انقلاب آتے ہی

    جان سی پڑ گئی دفینوں میں

    بات کرتے ہیں غم نصیبوں کی

    اور بیٹھے ہیں شہ نشینوں میں

    جن کو گرداب کی خبر ہی نہیں

    کیسے یہ لوگ ہیں سفینوں میں

    ہم صفیرو چمن کو بتلا دو

    سانپ بیٹھے ہیں آستینوں میں

    ہم نہ کہتے تھے شاعری ہے وبال

    آج لو گھر گئے حسینوں میں

    RECITATIONS

    خالد مبشر

    خالد مبشر

    خالد مبشر

    شمعیں روشن ہیں آبگینوں میں خالد مبشر

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY