شوق رقص سے جب تک انگلیاں نہیں کھلتیں

پروین شاکر

شوق رقص سے جب تک انگلیاں نہیں کھلتیں

پروین شاکر

MORE BY پروین شاکر

    شوق رقص سے جب تک انگلیاں نہیں کھلتیں

    پاؤں سے ہواؤں کے بیڑیاں نہیں کھلتیں

    پیڑ کو دعا دے کر کٹ گئی بہاروں سے

    پھول اتنے بڑھ آئے کھڑکیاں نہیں کھلتیں

    پھول بن کے سیروں میں اور کون شامل تھا

    شوخی صبا سے تو بالیاں نہیں کھلتیں

    حسن کے سمجھنے کو عمر چاہئے جاناں

    دو گھڑی کی چاہت میں لڑکیاں نہیں کھلتیں

    کوئی موجۂ شیریں چوم کر جگائے گی

    سورجوں کے نیزوں سے سیپیاں نہیں کھلتیں

    ماں سے کیا کہیں گی دکھ ہجر کا کہ خود پر بھی

    اتنی چھوٹی عمروں کی بچیاں نہیں کھلتیں

    شاخ شاخ سرگرداں کس کی جستجو میں ہیں

    کون سے سفر میں ہیں تتلیاں نہیں کھلتیں

    آدھی رات کی چپ میں کس کی چاپ ابھرتی ہے

    چھت پہ کون آتا ہے سیڑھیاں نہیں کھلتیں

    پانیوں کے چڑھنے تک حال کہہ سکیں اور پھر

    کیا قیامتیں گزریں بستیاں نہیں کھلتیں

    مآخذ:

    • Book : kulliyaat-e-maahe tamaam(khshboo) (Pg. 341)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY