شعر تو سب کہتے ہیں کیا ہے

محمد علوی

شعر تو سب کہتے ہیں کیا ہے

محمد علوی

MORE BYمحمد علوی

    شعر تو سب کہتے ہیں کیا ہے

    چپ رہنے میں اور مزا ہے

    کیا پایا دیوان چھپا کر

    لو ردی کے مول بکا ہے

    دروازے پر پہرہ دینے

    تنہائی کا بھوت کھڑا ہے

    گھر میں کیا آیا کہ مجھ کو

    دیواروں نے گھیر لیا ہے

    میں ناحق دن کاٹ رہا ہوں

    کون یہاں سو سال جیا ہے

    آگے پیچھے کوئی نہیں ہے

    کوئی نہیں تو پھر یہ کیا ہے

    باہر دیکھ چکوں تو دیکھوں

    اندر کیا ہونے والا ہے

    ایک غزل اور کہہ لو علویؔ

    پھر برسوں تک چپ رہنا ہے

    مآخذ:

    • کتاب : Raat Idhar Udhar Rooshan (Pg. 219)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY