شکوۂ گردش حالات لیے پھرتا ہے

انور مسعود

شکوۂ گردش حالات لیے پھرتا ہے

انور مسعود

MORE BYانور مسعود

    شکوۂ گردش حالات لیے پھرتا ہے

    جس کو دیکھو وہ یہی بات لیے پھرتا ہے

    اس نے پیکر میں نہ ڈھلنے کی قسم کھائی ہے

    اور مجھے شوق ملاقات لیے پھرتا ہے

    شاخچہ ٹوٹ چکا کب کا شجر سے لیکن

    اب بھی کچھ سوکھے ہوئے پات لیے پھرتا ہے

    سوچئے جسم ہے اب روح سے کیسے روٹھے

    اپنے سائے کو بھی جو سات لیے پھرتا ہے

    آسماں اپنے ارادوں میں مگن ہے لیکن

    آدمی اپنے خیالات لیے پھرتا ہے

    پرتو مہر سے ہے چاند کی جھلمل انورؔ

    اپنے کاسے میں یہ خیرات لیے پھرتا ہے

    مآخذ :
    • کتاب : ik daraicha ik chirag (Pg. 87)
    • Author : ANWAR MASOOD
    • مطبع : Dost Publications (2008)
    • اشاعت : 2008

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY