شور یوں ہی نہ پرندوں نے مچایا ہوگا

کیفی اعظمی

شور یوں ہی نہ پرندوں نے مچایا ہوگا

کیفی اعظمی

MORE BY کیفی اعظمی

    شور یوں ہی نہ پرندوں نے مچایا ہوگا

    کوئی جنگل کی طرف شہر سے آیا ہوگا

    پیڑ کے کاٹنے والوں کو یہ معلوم تو تھا

    جسم جل جائیں گے جب سر پہ نہ سایہ ہوگا

    بانیٔ جشن بہاراں نے یہ سوچا بھی نہیں

    کس نے کانٹوں کو لہو اپنا پلایا ہوگا

    بجلی کے تار پہ بیٹھا ہوا ہنستا پنچھی

    سوچتا ہے کہ وہ جنگل تو پرایا ہوگا

    اپنے جنگل سے جو گھبرا کے اڑے تھے پیاسے

    ہر سراب ان کو سمندر نظر آیا ہوگا

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    شور یوں ہی نہ پرندوں نے مچایا ہوگا نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY